Extremism and Racism
جنگ عظیم دوم کے اختتام کے دن تھے کروڑوں لوگ نسل پرستی کی بھینٹ چڑھ کر موت کی آغوش میں پناہ لے چکے تھے۔ اس خوفناک صورتحال سے نپٹنے کیلئے اور دنیا سے نسل پرستی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ایک جامعہ انسانی حقوق کا چارٹر تیار کیا گیا اور پھر دنیا بھر کی اقوام نے اس چارٹر کی تصدیق کی ۔ امید کی جا رہی تھی شاید دنیا ہٹلر کے انتہا پسندانہ نظریات کی قیمت ادا کرنے کے بعد اب کبھی ایسے نظریات کو پنپنے نہیں دے گی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اقوام عالم نے ماضی کے یاد کیے سبق کو بھولا دیا اور آج پھر اربوں انسان شدت پسندی کی آگ کے دہانے پر کھڑے ہیں اور اس آگ کو ہر روز مہذب معاشروں کے مہذب لیڈران ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔
ابھی کل کی بات ہے ایک خبر شہ سرخیوں کا حصہ تھی کہ امریکہ کی ریاست مسسیپی میں ایک شخص سے محض کالا رنگ ہونے کی بنیاد پر دوران حراست انسانیت سوزِ سلوک برتا گیا اور اس شخص کی موت واقعہ ہو گئی یہ خبر نسلِ پرستی اور شدت پسندی کی آگ کی انتہا کا پتہ دے رہی ہے۔ یوں تو اس رویے کے پیچھے صدیوں پے محیط ایک کہانی ہے لیکن ایسے واقعات میں حالیہ دنوں میں آنے والی تیزی کا ذمہ دار امریکی میڈیا اور سیاستدان بلخصوص صاحب اقتدار حلقہ ہے کیونکہ گزشتہ الیکشن سے لیکر آنے والے الیکشن کی مہم کے لئے ریپبلکن پارٹی نے جس چیز کا سب سے زیادہ سہارا لیا وہ ایسے نظریات کا پرچار ہی ہے بلکہ ریاستی سطح پر کئی ایسے اقدامات بھی کئیے گئے جنھوں نے عام عوام میں انتہا پسندی کو مزید فروغ دیا مثلاً کرونا وائرس کو چائنیز وائرس کا نام دے دینا،اسلاموفوبیا، کچھ ممالک کے شہریوں پر امریکہ سفر نہ کرنے کی پابندی لگانا اور گزشتہ امریکی صدر اوباما کو تنقید کا نشانہ بنانا وغیرہ وغیرہ۔
اگر بات کی جائے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی تو وہاں کی کہانی بھی گزشتہ کہانی سے ملتی جلتی ہے۔ہندوتوا نظریات کے جبراً فروغ سے لیکر مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں سے ناروا سلوک تک سب ریاست کی سرپرستی میں کیا جا رہا ہے۔ کہیں مسلمانوں اور کچھ اقلیتوں کو ہندوستان سے بے دخل کرنے کے لئے قانون بنائے جا رہے ہیں تو کہیں کرونا وائرس کا ذمہ دار مسلمانوں کو سمجھا جا رہا ہے۔
حالات کی سنگینی کی اندازہ اس مثال سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جب برما کی ریاستی دہشتگردی کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں آواز اٹھتی ہے تو وہاں برمی فوج کے قتل عام کا دفاع کرنے کے لئے امن کی نوبل انعام یافتہ خاتون آنگ سانگ سوچی کا ڈائس پر نمودار ہونا ہے۔ برطانیہ کے موجودہ وزیراعظم بورس جانسن کا انتخابی مہم میں ایسے ہی انتہاء پسندانہ جذبات کا اظہار کرنا ہو یا پھر چین میں افریقی شہریوں اور سنکیانگ کے مسلمانوں کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا جانا ہو یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
قربان جاؤں حضور اکرمؐ ﷺ پر جنہوں نے چودہ سو سال پہلے ہی ہمیں تعلیم دے دی کے فوقیت کا معیار عربی یا عجمی ہونا نہیں ہے بلکہ تقویٰ ہے اچھائیاں ہیں لیکن افسوس صد افسوس ہمارے معاشرے میں بھی حالات ان تعلیمات کے برعکس ہیں۔
انتہا پسندی اور نسلی امتیاز نے گلوبل ولڈ کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے ایسے جذبات و نظریات سے شاید اقتدار کی کرسیاں تو حاصل کر لی جائیں گی عام لوگ کو بھلا بھی لیا جائے گا لیکن اس کا آخری نتیجہ انسان نام کی سپیشی کا نایاب ہو جانا ہو گا بلکہ ان خطرناک ہتھیاروں کی موجودگی میں شاید کرہ ارض سے انسان نامی شے کا خاتمہ ہو گا اور شاید کرونا وائرس جیسی وبا قدرت کی طرف سے ہمیں ایسے رویوں کو ترک کرنے کا پیغام بھی ہو۔اسلئے بقاء انسانیت کے لئے لازم ہے کہ رواداری،انسانیت اور انسانی حقوقِ پر عملدرآمد کے عمل کو فروغ دیا جائے نہ کہ انسان کش خیالات کو۔
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔شکریہ
تحریر ثاقب کیانی

Bhot ahlaaa
ReplyDeleteEnteha pasandi insaniyat ki dushman ha ak dosray ko bardasht kernay main hi bahtry ha. Rawadari
ReplyDelete